Thursday, 17 February 2022

ہم بھی جائیں گے بلاوا اگر آ جائے تو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہم بھی جائیں گے بلاوہ اگر آ جائے تو

کوئی خوشبو کوئی پیغام ہوا لائے تو

میں نے دریائے مؤدّت سے اسے سینچا ہے

اب یہ گلشن مِرے ادراک کا مُرجھائے تو

آسماں بھی اسے پہلو میں دکھائی دے گا

تِرےؐ بستر پہ گھڑی بھر کوئی سو جائے تو

رو برو آ کے زیارت بھی وہ کروائیں گے

انؐ سے ملنے کی تڑپ آنکھ کو تڑپائے تو

بے ارادہ تِری چوکھٹ کی طرف دیکھتا ہے

دل اگر شورشِ آلام سے گھبرائے تو

میرے چہرے پہ پڑا راہِ مدینہ کا غبار

اب یہ مہتاب کسی طور سے گہنائے تو

خود بخود نعتﷺ اتر آتی ہے ورنہ ثاقب

ساتھ دیتے نہیں اظہار کے پیرائے تو


عباس ثاقب

No comments:

Post a Comment