آنکھوں میں جاگتی ہے جو تحریر خواب کی
رہنے دو میرے پاس یہ جاگیر خواب کی
آتی ہے اس گلی سے مہکتی ہوئی صبا
بڑھنے لگی ہے اور بھی توقیر خواب کی
خود آپ اپنی جو کریں ہم جستجو تمام
مل جائے گی وہ ذات میں تنویر خواب کی
درد و الم کی رات ڈھلے تو پتہ چلے
کرب و بلا کی دھوپ میں تصویر خواب کی
صحنِ چمن میں بادِ صبا کا خرامِ ناز
مہکی ہے کس گلی سے یہ تنویر خواب کی
رہبر کے بھیس میں ملے رہزن ہی بار بار
جب سے ملی ہے ہم کو یہ تعبیر خواب کی
اکرام الحق
No comments:
Post a Comment