Saturday, 24 December 2016

دلا تو سوچ کوئی کام وام کرنے کا

دِلا تو سوچ، کوئی کام وام کرنے کا
یہ بارِ عشق تو سر سے نہیں اترنے کا
جنابِ ہجر! اگر آپ کی اجازت ہو 
کچھ اہتمام کروں آپ کے ٹھہرنے کا
ملال یہ ہے کہ ہم نے عبث گزار دیا 
ہمارے پاس جو لمحہ تھا کر گزرنے کا
کچھ اس لیے بھی میں پیہم سخن تراشتا ہوں 
مجھے جنون ہے کاغذ کی جیب بھرنے کا
اسے روا ہے، محبت کو اختیار کرے 
جسے دماغ ہو آتش میں پاؤں دھرنے کا
مِرا مزاج ہی انوؔر، منافقانہ نہیں 
زبان دی ہے تو ہرگز نہیں مُکرنے کا

صغیر انور

No comments:

Post a Comment