Saturday, 24 December 2016

الٹ قسمت کا دھارا چل رہا ہے

الٹ قسمت کا دھارا چل رہا ہے
مگر پھر بھی گزارا چل رہا ہے
محبت بوجھ بنتی جا رہی ہے
خسارے پر خسارا چل رہا ہے
تعجب ہے، تمہارے فیصلوں پر
ابھی تک استخارہ چل رہا ہے 
ہمارا کیا کوئی رہبر نہیں ہے 
یونہی ہر اک ادارہ چل رہا ہے
دعا، منت، سماجت، آہ و زاری
اسی پر کام سارا چل رہا ہے
شکستہ خواب کا ملبہ سمیٹے
کوئی فرقت کا مارا چل رہا ہے

صغیر انور

No comments:

Post a Comment