الٹ قسمت کا دھارا چل رہا ہے
مگر پھر بھی گزارا چل رہا ہے
محبت بوجھ بنتی جا رہی ہے
خسارے پر خسارا چل رہا ہے
تعجب ہے، تمہارے فیصلوں پر
ہمارا کیا کوئی رہبر نہیں ہے
یونہی ہر اک ادارہ چل رہا ہے
دعا، منت، سماجت، آہ و زاری
اسی پر کام سارا چل رہا ہے
شکستہ خواب کا ملبہ سمیٹے
کوئی فرقت کا مارا چل رہا ہے
صغیر انور
No comments:
Post a Comment