کچھ نہیں ہے یار جانی خاک ہے
یہ سراپا، یہ جوانی، خاک ہے
آج بھی جھڑتی ہے اپنے جسم سے
یہ کوئی صدیوں پرانی خاک ہے
کیا کوئی پہچان پائے گا ہمیں
سچ تو یہ ہے اسکی چُپ کے سامنے
یہ مِری شعلہ بیانی خاک ہے
جانتا ہوں اے مِرے ذوقِ جنوں
تُو نے بھی کچھ دن اڑانی خاک ہے
ہم ہیں انوؔر دشت کے مسند نشین
اور اپنی راجدھانی خاک ہے
صغیر انور
No comments:
Post a Comment