Saturday, 17 December 2016

یہ مانتا ہوں کہ مطلق میں پارسا نہیں ہوں

یہ مانتا ہوں کہ مطلق میں پارسا نہیں ہوں 
مگر جو سوچ رہے ہو وہ، باخدا نہیں ہوں
کبھی کبھی تو میں خود سے مکر ہی جاتا ہوں 
کہ آپ پوچھنے والے سے کہہ دیا، نہیں ہوں
اسے کہو کہ غمِ ہجر سے نکالے مجھے 
اسے کہو کہ میں ویسا ہرا بھرا نہیں ہوں
کسی غریب کا ٹھیلہ نہیں، یہ آنکھیں ہیں 
میں ان میں خواب سجاتا ہوں، بیچتا نہیں ہوں
مِرا مزاج، مِرے ہم نشین جانتے ہیں 
میں جن سے ہاتھ ملاتا ہوں چھوڑتا نہیں ہوں
میں ان کے سرد رویوں کو یاد رکھتا ہوں 
میں اپنے چاہنے والوں کو بھولتا نہیں ہوں
مجھے تلاش ہے اس شخص کی صغیر انوؔر 
میں جس کے واسطے منزل ہوں، راستہ نہیں ہوں

صغیر انور

No comments:

Post a Comment