میں اور شیطان
جنت کی دیوار پہ چڑھ کے، میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے
جو نہ کبھی ہم نے دیکھا تھا، ہو کے حیران دیکھ رہے تھے
وادئ جنت کے باغوں میں، اف توبہ اک حشر بپا تھا
شیطان کے ہونٹوں پہ ہنسی تھی، میرا کلیجا کانپ رہا تھا
میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ، میں نے دیکھا جو نظارا
لعنت، لعنت بول رہا تھا، جنت کا ہر منظر پیارا
موٹے موٹے پیٹوں والے، بد صورت بد ہیئت ملا
سہمی ہوئی حوروں کے پیچھے بھاگ رہے تھے
بچ کے کہاں جاؤ گی، کہہ کے، وہ دیوانے ناچتے گاتے
چاروں طرف سے گھیر کے ان کو، ہنستے کودتے شور مچاتے
ڈر کے چیخیں مار رہی تھیں، حوریں ریشمی ساڑھیوں والی
ان کے دل دھک دھک کرتے تھے، دیکھ کے شکلیں داڑھیوں والی
میں اور شیطاں لب بہ دعا تھے، اے اللہ بچانا ان کو
اپنی رحمت کے پردے میں اے معبود چھپانا ان کو
راجا مہدی علی خان
No comments:
Post a Comment