تانگے والا
لے کے بیڑی کا ایک لمبا کش
ایک چابک لگا کے گھوڑے کو
تانگے والا مِرا لگا کہنے
دیکھ کر اک حسین جوڑے کو
بابو جی! ایک دن کا ذکر ہے یہ
میں نے ریشم کی مشہدی لنگی
آنکھ پر کچھ جھکا کے باندھی تھی
یہ مِری آنکھ چھپ گئی سی تھی
اس سڑک پر اس آنکھ نے دیکھا
چلبلی پیاری اک حسینہ کو
آ جا کڑیۓ ادھر ذرا’ کہہ کر‘
مار دی آنکھ اس لعینہ کو
اپنے گورے سے ہاتھ کا تھپڑ
میرے منہ پر جما دیا اس نے
یوں لگا جیسے گرم اک بوسہ
میرے منہ پر لگا دیا اس نے
اس حسیں ہاتھ کی حسیں خوشبو
اب بھی آتی ہے سونگھ لیتا ہوں
دو گھڑی بند کر کے میں آنکھیں
اپنے تانگے میں اونگھ لیتا ہوں
اور کیا چاہیۓ تھا بابو جی
راجا مہدی علی خان
No comments:
Post a Comment