ہزاروں لڑکیاں ایسی کہ ہر لڑکی پہ دم نکلے
بہت نکلے حسیں سڑکوں پہ لیکن پھر بھی کم نکلے
بھرم کھل جائے گا ان سب کے قامت کی درازی کا
جو انکی ’سیٹ شدہ‘ زلفوں کا کچھ بھی پیچ و خم نکلے
ملی آزاد نظموں کی طرح ان کو بھی آزادی
وہ آزادی کہ جس کو دیکھ کر شاعر کا دم نکلے
کوئی ہے آ کے جو ان سب کے ایڈریس ہم کو لکھوا دے
کوئی شام اور گھر سے جیب میں رکھ کر قلم نکلے
گھروں سے وہ نکل آئی ہیں ’ٹا ٹا‘ کہہ کے پردے کو
کہ گر نکلے تو سب عشاق کا سڑکوں پہ دم نکلے
گیا عہدِ کُہن،۔ اور شاعروں کی آج بن آئی
جو ’از راہِ ستم‘ چھپتے تھے’از راہِ کرم‘ نکلے
چلے آئے ادھر ہم بھی جوانی کا عَلم لے کر
کہ جن سڑکوں پہ جیتے ہیں انہیں سڑکوں پہ دم نکلے
نکلنا نوکروں کا گھر سے سنتے آئے ہیں، لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیری کوٹھی سے ہم نکلے
تیرے کتے بھی سارے شہر میں اِتراتے پھرتے ہیں
کبھی بھی تیری کوٹھی سے نہیں وہ ’سر بہ خم‘ نکلے
کہاں مۓ خانے کا دروازہ غالب اور کہاں سلمیٰ
پر اتنا جانتے ہیں ہم، وہ آتی تھی کہ ہم نکلے
راجا مہدی علی خان
No comments:
Post a Comment