Saturday, 17 December 2016

جی اس بندے کو ویسے تو ابو داؤد کہتے ہیں​

 ڈاکوؤں سے انٹرویو​

جی اس بندے کو ویسے تو ابو داؤد کہتے ہیں​

بہت سے مہرباں لیکن ابو المردود کہتے ہیں​

مِرے والد، فرید آباد کے مشہور ڈاکو تھے​

خدا بخشے انہیں، اپنے زمانے کے ہلاکو تھے​

نہیں تھا چور کوئی شہر میں دادا کے پائے کا​

چرا کر گھر میں لے آئے تھے کتا وائسرائے کا

مرے ماموں کے جعلی نوٹ امریکا میں چلتے تھے​

ہزاروں چور ڈاکو ان کی نگرانی میں پلتے تھے​

مرے پھوپھا چھٹے بدمعاش تھے اپنے زمانے کے​

خدا بخشے بہت شوقین تھے وہ جیل خانے کے​

خُسر صاحب، سخاوت پور کی رانی بھگا لائے​

مرے ہم زُلف، اس کی تین بہنوں کو اٹھا لائے​

مرے بھائی نے کی تھی فور ٹونٹی چیف جسٹس سے​

وہ جب بگڑا، جلا دیں اس کی مونچھیں اپنی ماچس سے​

بڑے وہ لوگ تھے لیکن یہ بندہ بھی نہیں کچھ کم​

خدا کا فضل ہے مجھ پر نہیں مجھ کو بھی کوئی غم​

میں راجوں اور مہاراجوں کی جیبیں بھی کترتا تھا​

چرس، کوکین اور افیون کا دھندا بھی کرتا تھا​

مرے معمولی شاگردوں نے چودہ بینک لوٹے تھے​

مِری کوشش سے باعزت بری ہو کر وہ چھوٹے تھے​

عدالت مانتی تھی میری قانونی دلیلوں کو​

کرایا میں نے اندر شہر کے پندرہ وکیلوں کو​

جو دن میں نے گزارے، شان و شوکت سے گزارے ہیں​

ذرا کچھ ان دنوں ہی میرے گردش میں ستارے ہیں​

راجا مہدی علی خان

No comments:

Post a Comment