Saturday, 17 December 2016

اب کھل کے آ گئے ہیں جو چلمن کے لوگ تھے

 اب کھل کے آ گئے ہیں، جو چلمن کے لوگ تھے

کس کو خبر تھی، گھر میں ہی دشمن کے لوگ تھے

پرواز کا جو درس سکھاتے تھے رات دن

افلاک کے نہ تھے، وہ نشیمن کے لوگ تھے

دولت کی ریل پیل یقیناً تھی، دل نہ تھا

دھنوان تو نہیں تھے، مگر دھن کے لوگ تھے

لفظوں سے کھیلنے کو سیاست کہا کیۓ

فکر و نظر کے لوگ نہ تھے، فن کے لوگ تھے

جو کالے دھن کے لوگ تھے، دھن لے کے اڑ گئے

لیکن ہر اک قطار میں جن دھن کے لوگ تھے

منہ میں تھا رام رام، بغل میں چھری عزیزؔ 

یہ رام کے نہیں، یہ تو راوان کے لوگ تھے


عزیز بلگامی

No comments:

Post a Comment