Saturday, 17 December 2016

فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سخن کا پہلو

 فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سخن کا پہلو

بس اِسی واسطے تشنہ رہا فن کا پہلو

لوٹ جاتی ہے، بہار آ کے درِ گلشن تک 

اب خزاں کے لیے کھلتا ہے چمن کا پہلو

انقلابات کی تقدیر سنور جائے گی

جاں گزیں سوچ میں ہو دار و رسن کا پہلو

دل کو چھوتی نہیں اب کوئی غزل، شعر کوئی

چھا گیا حسنِ ترنم پہ بھجن کا پہلو

میں تو بس، دولتِ اخلاص کا شیدائی ہوں 

اس لیے پیشِ نظر ہی نہیں دھن کا پہلو

ایک حسینہ ہے، تشدد جسے کہتے ہیں عزیزؔ 

گرم رکھتی ہے بہت اہلِ وطن کا پہلو


عزیز بلگامی

No comments:

Post a Comment