زمیں بنجر ہے، پھر بھی بیج بولو، کیا تماشہ ہے
ترازو پر خِرد کی دل کو تولو، کیا تماشہ ہے
نہیں، کشکول برداری تمہاری، وجہِ رسوائی
محبت مانگنی ہے، منہ تو کھولو، کیا تماشہ ہے
زمانے سے چھپا رکھا ہے ہم نے سارے زخموں کو
ستم کے داغِ داماں تم بھی دھو لو، کیا تماشہ ہے
ابھی چشمِ کرم کی آرزو ہے سیر چشموں کو
ہو ممکن تو ہوس کے داغ دھو لو، کیا تماشہ ہے
ابھی تک گیسوؤں کے پیچ و خم کی بات ہوتی ہے
بھگو لو، اب تو پلکوں کو بھگو لو، کیا تماشہ ہے
عزیزؔ آنسو بہانے کو جہاں تیار بیٹھا ہے
ضروری تو نہیں ہے تم بھی رو لو، کیا تماشہ ہے
عزیز بلگامی
No comments:
Post a Comment