میں فن پر اک نوازش کر رہا ہوں
غزل کہنے کی کوشش کر رہا ہوں
تمناؤں کی بارش کر رہا ہوں
یوں دل کی آزمائش کر رہا ہوں
کوئی لوٹا دے مجھ کو میرا بچپن
گزارش پر گزارش کر رہا ہوں
میں نفرت کر رہا ہوں سارے جگ سے
خلاف اپنے ہی سازش کر رہا ہوں
لکھا کچھ بھی نہیں ہے جن خطوں میں
انہیں کو نذرِ آتش کر رہا ہوں
کرم کی، ظلم کے ماروں کی خاطر
شریروں سے سفارش کر رہا ہوں
فلک کو تک رہا ہوں، آنکھ بھر کر
دعاؤں کی میں بارش کر رہا ہوں
کوئی بادل اٹھے اور جم کے برسے
پرندوں کی سی خواہش کر رہا ہوں
مقرر دن ہے پُرسش کا،۔ مگر میں
ابھی سے دل کی پُرسش کر رہا ہوں
عزیزؔ اس دورِ ظلمت میں مسلسل
قلم سے سعئ تابش کر رہا ہوں
عزیز بلگامی
No comments:
Post a Comment