ہے رسم و راہِ خوشامد کو چھوڑنے کا خیال
ابھر رہا ہے دلوں کو جھنجوڑنے کا خیال
دلوں کے بیچ روابط کا ہے خیال ہمیں
دلوں میں انکے، دلوں کو ہے توڑنے کا خیال
ستاتا ہے بھی، کبھی منصفو! ستم کے بیچ
ستم گروں کی کلائی مروڑنے کا خیال
بنا ہی دیتا ہے مجبور، ظلم ہی کا دباؤ
کسے پسند ہے بستی کو چھوڑنے کا خیال
جو کھینچتی ہے، رخِ زن سے چادرِ عصمت
ستاتا ہے ان آنکھوں کو پھوڑنے کا خیال
تباہیوں پہ عزیزؔ اب یہ تبصرے کب تک
ابھاریئے، رخِ طوفاں کو موڑنے کا خیال
عزیز بلگامی
No comments:
Post a Comment