تمہیں کس نے کہا تھا تم مجھے چاہو، بتاؤ تو؟
جو دم بھرتے ہو چاہت کا تو پھر اس کو نبھاؤ تو
دئیے جاتے ہو یہ دھمکی؛ گیا تو پھر نہ آؤں گا
کہاں سے آؤ گے، پہلے مِری دنیا سے جاؤ تو
مِری چاہت بھی ہے تم کو اور اپنا گھر بھی پیارا ہے
نپٹ لوں گی میں ہر غم سے، تم اپنا گھر بچاؤ تو
تمہارے سچ کی سچائی پہ میں قربان ہو جاؤں
پر اپنا سچ بیاں کرنے کی تم ہمت جٹاؤ تو
فقط ان بددعاؤں سے بُرا میرا کہاں ہو گا
مجھے برباد کرنے کا ذرا بیڑا اٹھاؤ تو
دپتی مشرا
No comments:
Post a Comment