سو چکیں جو خواہشیں ان کو جگاتی ہے ہوا
سوکھے پیڑوں کے بدن کو گدگداتی ہے ہوا
جانتی ہے میں کسی کا منتظر ہوں، اس لیے
دے کے در پر دستکیں مجھ کو چھکاتی ہے ہوا
پہلے خود پڑھتی ہے کمر ے میں مِرے ذاتی خطوط
پھر انہیں کھڑکی سے کوچے میں گراتی ہے ہوا
لے کے دامن میں لب و رخسار کی چنگاریاں
بے سبب خس و خانۂ دل میں سماتی ہے ہوا
پھول خود لذت کے عادی ہیں، بکھر جاتے ہیں خود
گالیاں لیکن چمن والوں کی کھاتی ہے ہوا
جس گلی میں پر تصور کے بھی جلتے ہیں ظہیر
اس گلی سے میرے گھر تک آتی جاتی ہے ہوا
ظہیر صدیقی
No comments:
Post a Comment