Wednesday, 15 December 2021

لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

 لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

پھول ہونٹوں کے تھرتھراتے ہیں

پھول ہی پھول یاد آتے ہیں

آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں

آپ جا کر ہوا سے کہہ دیجے

پھول پتے بھی گنگناتے ہیں

دھوپ بیٹھی رہی منڈیروں پر

اور کچھ پنچھی چہچہاتے ہیں

مسکراہٹ کھلی ہے چہرے پر

اشک آنکھوں میں جھلملاتے ہیں

ان نگاہوں کے لکچھ پر میں ہوں

زخم لے کر کے تیر آتے ہیں

ایسے تیراک ہم نہیں ساجد

خوف گہرائیوں سے کھاتے ہیں


ساجد پریمی

No comments:

Post a Comment