Wednesday, 15 December 2021

اگر بدلا کبھی رخ بے رخی کا

 اگر بدلا کبھی رخ بے رخی کا

تو آئے گا مزہ کچھ زندگی کا

مجھے برباد کر کے ہنس رہے ہو

لیا ہے تم نے یہ بدلا کبھی کا

اسی امید پر غم سہ رہا ہوں

کبھی تو آئے گا موقع خوشی کا

مجھے دل سے بھلانا چاہتے ہو

یہی ہے مدعا دامن کشی کا

محبت میں گئی عزت تو کیا غم

یہاں یہ حشر ہوتا ہے سبھی کا

کبھی ہو گا شگفتہ دل کا غنچہ

کبھی بدلے گا رنگ افسردگی کا

مجھے افضل ڈبویا ہے اسی نے

جسے سمجھے سہارا زندگی کا


افضل پشاوری

افضل پیشاوری

No comments:

Post a Comment