تبھی تو ماں ڈری بیٹھی ہوئی ہے
کہ اک جاہل کے ہاں بیٹی ہوئی ہے
میں لڑکی ہوں کہ یا کوئی دِیا ہوں
ہوا دامن سے یوں لپٹی ہوئی ہے
حقیقت میں تو جو گزری عروبہ
اک ایسی فلم بھی دیکھی ہوئی ہے
گلابوں کے لیے اک مسئلہ ہے
عروبہ باغ میں آئی ہوئی ہے
اجالا بانٹ کر آئی عروبہ
اور اب کچھ تیرگی تھامی ہوئی ہے
درختوں کو عروبہ جانتی ہے
یہ ان کے ہاتھ میں کھیلی ہوئی ہے
عروبہ نقوی
No comments:
Post a Comment