سامنے آئی ہے پھر سے تیری صورت آج بھی
مجھ پہ برپا ہو گئی پھر سے قیامت آج بھی
وہ مِرے دل کی عدالت میں ہے اب بھی بے گناہ
کر رہا ہوں اپنے مجرم کی وکالت آج بھی
زندگی میں کوئی ہو جو زخم دے اور درد دے
در حقیقت ہے مجھے تیری ضرورت آج بھی
ہم نے کھائی راہِ الفت میں بہت سی ٹھوکریں
دے رہیں ہیں ہم مگر پیغامِ الفت آج بھی
رات دن مصروف رہتا ہوں تمہاری یاد میں
بھولتا کیا، مل نہ پائی مجھ کو فرصت آج بھی
عزم پختہ اور دعائیں ساتھ ہوں یاسین گر
اپنی محنت سے بدل سکتے ہیں قسمت آج بھی
یاسین باوزیر
No comments:
Post a Comment