Thursday, 12 August 2021

آئینہ جھوٹ بولتا ہے

 آئینہ


میں اپنی صورت کو آئینے میں

ہوں دیکھ کر آج سخت حیراں

وہ خوبصورت ہرن سی آنکھیں

کہاں گئیں؟ کیا ہوا ہے ان کو؟

وہاں تو اب دو گڑھے ہیں باقی

مہیب سنسان، اور ویراں

گُلاب سے سُرخ ہونٹ میرے

خجل تھے یاقوت و لعل جن سے

جما ہوا ان پہ دیکھتی ہوں

بہت سے لوگوں کا خونِ ناحق

یہ میرا پِیلا سا زرد چہرہ

نہیں ہے اک خوں کی بُوند جس میں

یہ مُردنی دیکھ کر مجھے تو

بڑا ہی خوف آ رہا ہے خود سے

میں سوچتی ہوں یہ بھولی دنیا

ہے کتنی معصوم اور ناداں

کہ پھر بھی مجھ کو سمجھ رہی ہے

حسین اور نازنین اب تک

مگر نہیں میں تو واقعی ہوں

بہت حسین اور خوبصورت

یہ آئینہ جھوٹ بولتا ہے

دروغ گو ہے

میں توڑ دوں گی اسے ابھی پھر

کبھی نہ دیکھوں گی اس میں چہرہ

سَکھی وہ آئینہ مجھ کو لا دے

جو مجھ کو اک بار پھر دِکھا دے

مِری وہ پہلی سی پیاری صورت


فخر زمان

No comments:

Post a Comment