Thursday, 12 August 2021

وقت سے پہلے ہوئی شام گلہ کس سے کروں

 وقت سے پہلے ہوئی شام گِلہ کس سے کروں

رہ گئے کتنے مِرے کام گلہ کس سے کروں

اپنی ناکام تمنا کا سبب میں تو نہ تھی

آ گیا مجھ پہ ہی الزام گلہ کس سے کروں

دل ہراساں ہے بہت دیکھ کے انجامِ وفا

اے مِری حسرتِ ناکام گلہ کس سے کروں

اب تو وہ مجھ سے ملاتا ہی نہیں اپنی نظر

اب چھلکتے ہی نہیں جام گلہ کس سے کروں

میرے قدموں نے مِرا ساتھ کہاں چھوڑ دیا

منزلِ شوق تھی دو گام گلہ کس سے کروں

ہجر کا روگ بھی رُسوائی بھی پائی رومی

پوچھ مت عشق کا انجام گلہ کس سے کروں


رومانہ رومی

No comments:

Post a Comment