ہم نئے آئے ہیں یاں سب کو ہرانے والے
خاک آلود ہوں سب شعر چُرانے والے
جی حضوری مِرا شیوہ ہی نہیں ہے ورنہ
ساتھ دینے کو مِرا دیتے زمانے والے
تُو نے حالات پہ چُپ رہنے کی کھائی ہے قسم
اب تو کچھ بول ذرا غم کو منانے والے
سانپ کیوں سُونگھ گیا ہے یہ بتا اب تجھ کو
کچھ تو ہنس بول دے اے مجھ کو رُلانے والے
نئے کپڑوں سے نہ جانے کیوں چبھن ہوتی ہے
اچھے لگتے ہیں وہی کپڑے پرانے والے
صوفیہ جانتی تھی وقت بدل جاتا ہے
دیکھ سب گِر گئے اب مجھ کو گِرانے والے
صوفیہ زاہد
No comments:
Post a Comment