Sunday, 15 August 2021

کسی کی یاد ہے اور حسرتوں کا ماتم ہے

 کسی کی یاد ہے اور حسرتوں کا ماتم ہے

بہت دنوں سے لگا تار آنکھ پر نم ہے

ہو زرد زرد نہ کیوں شمع کی ضیا یارو

کہ اس کو اپنے پگھلنے کا جاں گسل غم ہے

غم و الم کا بھی احساس اب نہیں ہوتا

شعور و فکر و نظر کا عجیب عالم ہے

لہو جلاؤ کچھ اس میں کہ روشنی تو بڑھے

چراغِ بزم سرِ شام ہی سے مدھم ہے

بچی ہے خم میں جو وہ فخر ہے مِرا حصہ

کہ میرے جام ہی میں دوسروں سے مے کم ہے


فخر زمان

No comments:

Post a Comment