Sunday, 15 August 2021

شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں

 شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں

ٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوں

تجھ سے جو ہو نہ سکا کام وہ کر آیا ہوں

آسماں چھوڑ کے دھرتی پہ اتر آیا ہوں

دشت تنہائی میں بکھرا ہوں ہواؤں کی طرح

اک صدا بن کے دل سنگ میں در آیا ہوں

جانے کس خوف سے پھرتا ہوں میں گھبرایا ہوا

کیا بلا بن کے میں خود اپنے ہی سر آیا ہوں

دل شکستہ سے در و بام کی مدت کے بعد

خیریت پوچھنے اجڑے ہوئے گھر آیا ہوں

شوخ راتوں کے لیے میرے تعاقب میں نہ آ

درد کا چاند ہوں خوابوں میں نظر آیا ہوں

اپنا سایہ بھی ظفر مجھ کو نہ پہچان سکا

کس نئے بھیس میں میں آج ادھر آیا ہوں


ظفر غوری

No comments:

Post a Comment