دور سے ہاتھ ہلاتا تھا کہ میں آتا ہوں
وہ مِری آس بندھاتا تھا کہ میں آتا ہوں
ایسے لہراتا اٹھا کر وہ ہوا میں آنچل
ایک تصویر بناتا تھا کہ میں آتا ہوں
پھینکتا جاتا تھا دریا میں اٹھا کر کنکر
اور یہی سوچتا جاتا تھا کہ میں آتا ہوں
قبلہ رو ہو کے عدالت میں بیاں دوں گا میں
وہ مجھے پھول دکھاتا تھا کہ میں آتا ہوں
میں نے کھولا جو دریچہ تو وہاں کوئی نہ تھا
خواب میں آ کے بتاتا تھا کہ میں آتا ہوں
میں نے رٹ لی تھی یہی بات زبانی اس کی
گنگناتا چلا جاتا تھا کہ میں آتا ہوں
اعجاز نعمانی
No comments:
Post a Comment