رگ جاں میں سما جاتی ہو جاناں
تم اتنا یاد کیوں آتی ہو جاناں
تمہارے سائے ہے پہلو میں اب تک
کہ جا کر بھی کہاں جاتی ہو جاناں
مِری نیندیں اڑا رکھی ہیں تم نے
یہ کیسے خواب دکھلاتی ہو جاناں
کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا میں
مِری قسمیں بہت کھاتی ہو جاناں
وہ سنتا ہوں میں اپنی دھڑکنوں سے
تم آنکھوں سے جو کہہ جاتی ہو جاناں
پرایا پن نہیں اپنائیت ہے
جو یوں آنکھیں چُرا جاتی ہو جاناں
سبحان اسد
No comments:
Post a Comment