Sunday, 15 August 2021

رگ جاں میں سما جاتی ہو جاناں

 رگ جاں میں سما جاتی ہو جاناں

تم اتنا یاد کیوں آتی ہو جاناں

تمہارے سائے ہے پہلو میں اب تک

کہ جا کر بھی کہاں جاتی ہو جاناں

مِری نیندیں اڑا رکھی ہیں تم نے

یہ کیسے خواب دکھلاتی ہو جاناں

کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا میں

مِری قسمیں بہت کھاتی ہو جاناں

وہ سنتا ہوں میں اپنی دھڑکنوں سے

تم آنکھوں سے جو کہہ جاتی ہو جاناں

پرایا پن نہیں اپنائیت ہے

جو یوں آنکھیں چُرا جاتی ہو جاناں


سبحان اسد

No comments:

Post a Comment