Tuesday, 18 May 2021

مرے دل کو محبت خوب گرمائے تو اچھا ہو

 مِرے دل کو محبت خوب گرمائے تو اچھا ہو

خلش بڑھ کر علاجِ درد بن جائے تو اچھا ہو

مِرے اشکِ محبت سے دلوں کے میل دُھل جائیں

مِرا غم زندگی کے کام آ جائے تو اچھا ہو

ہر اک مظلوم کو میری حمایت کا سہارا ہو

مِرا ذوقِ عمل اس راہ پر آئے تو اچھا ہو

مِرے سوزِ دروں سے جگمگائے ہستئ عالم

مِرا نورِ بصیرت عام ہو جائے تو اچھا ہو

اندھیری شب ہے شمعِ دل فروزاں کیجیئے یارو

ستاروں کی چمک کچھ اور بڑھ جائے تو اچھا ہو

زباں پر بات بھولے سے نہ آئے شکوۂ دل کی

تغافل پر کبھی ان کے نہ حرف آئے تو اچھا ہو

حقیقت خود کو منوا لے زبان بے زبانی سے

خود ان کا دل نگاہوں سے جو شرمائے تو اچھا ہو

مِری بے چینیوں کو چین کچھ تو آ ہی جائے گا

طبیبِ عشق مجھ کو دیکھنے آئے تو اچھا ہو

انہیں رنگینیوں سے اک شغف اے تاج رہتا ہے

مِری بے چینیوں میں رنگ بھر جائے تو اچھا ہو


ظہیر احمد تاج

No comments:

Post a Comment