Sunday, 23 May 2021

مجھ پر سرور چھا گیا بادۂ دلنواز سے

 مجھ پر سرور چھا گیا بادۂ دلنواز سے

دنیا مِری بدل گئی ایک نگاہِ ناز سے

آنکھ میں گر نہ آ سکے دل تو مقام ہے تِرا

خلوتِ دل میں آ کبھی اپنے حریمِ ناز سے

ساقیٔ مہرباں! پِلا بادۂ معرفت اثر

مست بنا کے دے خبر حسنِ ازل کے راز سے

دیکھ نگاہِ شوق سے حسن و جمال کا جہاں

جلوہ ہی جلوہ چار سُو حسنِ نظر نواز سے

جامِ فرنگ کا نشہ فکر و نظر کی مرگ ہے

دل کا بھلا نہ ہو سکا بادۂ خوں طراز سے

مجھ کو فریب دے گیا تجھ کو فریب دے گیا

زہر پلا گیا فرنگ جامِ زمانہ ساز سے

قلب و جگر بھڑک اٹھے بادۂ نو کی آگ سے

دل کو سکوں ملا ہمیں تاج مئے حجاز سے


ظہیر احمد تاج

No comments:

Post a Comment