Sunday, 23 May 2021

تم پہ سورج کی کرن آئے تو شک کرتا ہوں

 تم پہ سورج کی کرن آئے تو شک کرتا ہوں

چاند دہلیز پہ رک جائے تو شک کرتا ہوں

میں قصیدہ تِرا لکھوں تو کوئی بات نہیں

پر کوئی دوسرا دہرائے تو شک کرتا ہوں

اڑتے اڑتے کبھی معصوم کبوتر کوئی

آپ کی چھت پہ اُتر جائے تو شک کرتا ہوں

پھُول کے جھنڈ سے ہٹ کر کوئی پیاسا بھنورا

تیرے پہلو سے گزر جائے تو شک کرتا ہوں

شِیو تو ایک تراشی ہوئی مُورت ہے، مگر

تُو اسے دیکھ کے شرمائے تو شک کرتا ہوں


احمد کمال پروازی

No comments:

Post a Comment