آ گئی یاد تِری شام سے پہلے پہلے
پھر سے قندیل جلی شام سے پہلے پہلے
وہی خوشبو جو کہیں دور خلا میں گم تھی
دستکیں دینے لگی شام سے پہلے پہلے
اس پہ کیا زادِ سفر باندھ کے نکلے کوئی
جو سڑک ٹوٹ گئی شام سے پہلے پہلے
سننے لگتی ہے تِرے پائوں کی آہٹ کوئی
دل کی سنسان گلی شام سے پہلے پہلے
بلب تو سارے مکانوں میں ہوئے ہیں روشن
موم بتی ہی بجھی شام سے پہلے پہلے
ایسا لگتا ہے کوئی ریل رکی ہے مسعود
دور سیٹی سی بجی شام سے پہلے پہلے
مسعود جعفری
No comments:
Post a Comment