Saturday, 13 November 2021

ہم اس کے ہاتھ کے پتھر کو دیکھیں

 ہم اس کے ہاتھ کے پتھر کو دیکھیں

کہ اپنے زخم خوردہ سر کو دیکھیں

کہاں ہے اتنی فرصت آج ہم کو

کہ جی بھر کے کسی منظر کو دیکھیں

اگر ہو دیکھنا کوزے میں دریا

تو آئیں میری چشمِ تر کو دیکھیں

غبارِ غم ذرا چہرے پہ مل کر

کبھی احباب کے تیور کو دیکھیں

جو بازی جیت کر بھی ہار بیٹھے

بھلا کیا ایسے بازی گر کو دیکھیں

جو گھر ہے بے گھری کا بوجھ اٹھائے

چلو چل کر ذرا اس گھر کو دیکھیں

کہاں سے ایسی آنکھیں لائے صابر

نئی تہذیب کے منظر کو دیکھیں


حلیم صابر

No comments:

Post a Comment