Friday, 12 November 2021

آنکھیں غم فراق سے ہیں تر ادھر ادھر

 آنکھیں غم فراق سے ہیں تر اِدھر اُدھر

غم کا اثر ہے آج برابر ادھر ادھر

تھے جو وفا شعار وہ نذرِ ستم ہوئے

اب کس کو ڈھونڈھتا ہے ستمگر ادھر ادھر

محفل میں تیرے حسن پہ قربان ہو گا کون

دیوانے چل دئیے جو نکل کر ادھر ادھر

ساقی کے ساتھ رونق مے خانہ بھی گئی

ٹوٹے پڑے ہیں شیشہ و ساغر ادھر ادھر

ایسا نہ ہو زمانہ ہنسے تم پر ایک دن

لکھو نہ میرے حال پہ ہنس کر ادھر ادھر

دل میں کبھی ہے درد، جگر میں کبھی خلش

جیسے چھپے ہوں سینے میں نشتر ادھر ادھر

اپنی غزل سناؤ شمیم اہلِ ذوق کو

ضائع کرو نہ فکر کے جوہر ادھر ادھر


شمیم فتحپوری

No comments:

Post a Comment