Friday, 12 November 2021

ہشیار نہیں شخص وہ نادان بہت ہے

 ہشیار نہیں شخص وہ نادان بہت ہے

جو خواہشِ دولت میں پریشان بہت ہے

ذلت کے نہیں چاہیۓ تر ہم کو نوالے

عزت کی روکھی اپنے لیے نان بہت ہے

کیوں پیچھے زمانے کے چلیں زندگی میں ہم

اپنی تو ہدایت کو یہ قرآن بہت ہے

محروم ہے وہ دھوپ میں سائے سے بھی اس کے

جس مالی کا اس پیڑ پہ احسان بہت ہے

اب خشک زمینوں کے بھی چمکیں گے مقدر

برسے گی گھٹا خوب یہ امکان بہت ہے

شہرت کے لیے پیشِ جہاں میں نہ جھکوں گا

جو رب نے مجھے بخشی ہے وہ شان بہت ہے

ہرگز نہ گریں گے یہ وفا تند ہوا سے

اِن زرد سے پتوں میں ابھی جان بہت ہے


وفا صدیقی

No comments:

Post a Comment