دل کو تمام عمر یوں رونے کا دکھ ملا
ہر اک معاملے میں نہ ہونے کا دکھ ملا
کرب و ملال نے مجھے جکڑا ہوا ہے دوست
آنکھوں کو آنسوؤں سے پرونے کا دکھ ملا
میری عقیدتوں میں کمی آ گئی ضرور
یوں اپنے آپ کو تو نہ کھونے کا دکھ ملا
میں ہوں اداس اور یہ شب بھی اداس ہے
یعنی کسی خیال میں سونے کا دکھ ملا
میرے خلاف تم نہیں، میرا مزاج ہے
کانٹوں کے بیچ پھول ہی بونے کا دکھ ملا
کیوں میرے گلستان میں آئی نہیں بہار
آنکھیں خزاں کی رُت میں بھگونے کا دکھ ملا
کاشف کو ناخدا سے کوئی دکھ ملا نہیں
کشتی بھنور کے بیچ ڈبونے کا دکھ ملا
کاشف لاشاری
No comments:
Post a Comment