Thursday, 10 March 2022

ازل سے ہمسفر کیا ہم مقدر تک نہیں ملتے

 ازل سے ہمسفر کیا ہم مقدر تک نہیں ملتے

کنارے آبِ دریا کے سمندر تک نہیں ملتے 

بچا آباد آنکھوں کو بہت رونا نہیں اچھا 

جہاں سیلاب آتے ہیں وہاں گھر تک نہیں ملتے 

گزرگاہیں یہ راز افشا نہیں کرتیں جہاں پہلے 

بہت اونچے محل تھے ان کو پتھر تک نہیں ملتے 

زمیں کا خلفشار اس طرح سب پر سایہ افگن ہے 

گھروں کی چار دیواری میں اب در تک نہیں ملتے 

رضی! اب نسلِ آدم پر کچھ ایسا قحط انساں ہے 

مسلماں کیا اس آبادی میں کافر تک نہیں ملتے 


صفدر صدیق رضی

No comments:

Post a Comment