ازل سے ہمسفر کیا ہم مقدر تک نہیں ملتے
کنارے آبِ دریا کے سمندر تک نہیں ملتے
بچا آباد آنکھوں کو بہت رونا نہیں اچھا
جہاں سیلاب آتے ہیں وہاں گھر تک نہیں ملتے
گزرگاہیں یہ راز افشا نہیں کرتیں جہاں پہلے
بہت اونچے محل تھے ان کو پتھر تک نہیں ملتے
زمیں کا خلفشار اس طرح سب پر سایہ افگن ہے
گھروں کی چار دیواری میں اب در تک نہیں ملتے
رضی! اب نسلِ آدم پر کچھ ایسا قحط انساں ہے
مسلماں کیا اس آبادی میں کافر تک نہیں ملتے
صفدر صدیق رضی
No comments:
Post a Comment