موسم
اس کے ماتھے پہ لکھا تھا
وہ دکھوں سے گزری ہے
ضرور کچھ لمحے بھی جلے ہوں گے
تب ہی تو باتوں سے راکھ اڑ رہی تھی
کچھ تاریک دن سو کے گزارے تھے شاید
یہی وجہ تھی کہ اس کے نین
دو بجھے ہوئے ٹھنڈے دِیے لگ رہے تھے
میں نے پوچھا اس سے؛ کیا دکھ ہے تجھ کو
اس نے کہا؛ موسم
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment