Thursday, 10 March 2022

اس کے ماتھے پہ لکھا تھا وہ دکھوں سے گزری ہے

 موسم


اس کے ماتھے پہ لکھا تھا 

وہ دکھوں سے گزری ہے

ضرور کچھ لمحے بھی جلے ہوں گے 

تب ہی تو باتوں سے راکھ اڑ رہی تھی 

کچھ تاریک دن  سو کے گزارے تھے شاید 

یہی وجہ تھی کہ اس کے نین 

دو بجھے ہوئے ٹھنڈے دِیے لگ رہے تھے

میں نے پوچھا اس سے؛ کیا دکھ ہے تجھ کو  

اس نے کہا؛ موسم


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment