Tuesday, 20 December 2016

پہلے انکار بہت کرتا ہے

پہلے انکار بہت کرتا ہے
بعد میں پیار بہت کرتا ہے
چوم کر جلتی ہوئی پیشانی
وہ، گنہ گار بہت کرتا ہے
مان لیتا ہے وہ ساری باتیں
پھر بھی تکرار بہت کرتا ہے
زرد پتوں کا سنہرا موسم
مجھ کو بیمار بہت کرتا ہے
ایک بوسہ ہو یا آںسو قیصرؔ
چہرہ گلنار بہت کرتا ہے

نذیر قیصر

No comments:

Post a Comment