پہلے انکار بہت کرتا ہے
بعد میں پیار بہت کرتا ہے
چوم کر جلتی ہوئی پیشانی
وہ، گنہ گار بہت کرتا ہے
مان لیتا ہے وہ ساری باتیں
زرد پتوں کا سنہرا موسم
مجھ کو بیمار بہت کرتا ہے
ایک بوسہ ہو یا آںسو قیصرؔ
چہرہ گلنار بہت کرتا ہے
نذیر قیصر
No comments:
Post a Comment