دل کے کہنے پر چل نکلا
میں بھی کتنا پاگل نکلا
آنسو نکلے،۔ کاجل نکلا
رونے سے کب حل نکلا
پونچھ سکا بس اپنے آنسو
چُور ہوا پر جھوٹ نہ بولا
درپن مجھ سا اڑیل نکلا
دشمن کے گھر بوندیں نرسیں
میری چھت سے بادل نکلا
قتل ہوئی ہر صورت آخر
دل میرا اک مقتل نکلا
باہر سے تھا خار صدؔا تو
اندر پھول سا کومل نکلا
صدا انبالوی
No comments:
Post a Comment