Tuesday, 20 December 2016

دل کے کہنے پر چل نکلا

دل کے کہنے پر چل نکلا
میں بھی کتنا پاگل نکلا
آنسو نکلے،۔ کاجل نکلا 
رونے سے کب حل نکلا
پونچھ سکا بس اپنے آنسو
کتنا چھوٹا آنچل نکلا
چُور ہوا پر جھوٹ نہ بولا
درپن مجھ سا اڑیل نکلا
دشمن کے گھر بوندیں نرسیں
میری چھت سے بادل نکلا
قتل ہوئی ہر صورت آخر
دل میرا اک مقتل نکلا
باہر سے تھا خار صدؔا تو
اندر پھول سا کومل نکلا

صدا انبالوی

No comments:

Post a Comment