خاک اگاتی ہیں صورتیں کیا کیا
آئینوں میں ہیں صورتیں کیا کیا
عمر کے بے ثبات صفحوں پر
لکھ رہا ہوں عبارتیں کیا کیا
کھلتے جاتے ہیں بابِ حرف و صدا
مڑ کے دیکھوں تو نقشِ پا کی طرح
ہم سفر ہیں روایتیں کیا کیا
آدمی مرثیوں کی صورت میں
لکھ رہا ہے بشارتیں کیا کیا
نذیر قیصر
No comments:
Post a Comment