مٹی سے کچھ خواب اگانے آیا ہوں
میں دھرتی کا گیت سنانے آیا ہوں
تُو نے دریاؤں میں دِیئے بہائے ہیں
میں بھی اپنے ہونٹ جلانے آیا ہوں
تجھ سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے
اب کے بار میں تجھ سے ملنے نہیں آیا
تجھ کو اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں
چار دِیے تیری دہلیز پہ روشن ہیں
ایک دیا میں اور جلانے آیا ہوں
تُو نے تیغ سے لہو کی بوند گرائی تھی
میں دھرتی سے پھول اٹھانے آیا ہوں
نذیر قیصر
No comments:
Post a Comment