Wednesday, 2 December 2015

یہ کریں اور وہ کریں ایسا کریں ویسا کریں

یہ کریں اور وہ کریں ایسا کریں ویسا کریں
زندگی دو دن کی ہے دو دن میں ہم کیا کیا کریں
دوسروں سے کب تلک ہم پیاس کا شکوہ کریں
لاؤ تیشہ، ایک دریا دوسرا پیدا کریں
حسن خود آئے طوافِ عشق کرنے کے لیے
عشق والے زندگی میں حسن تو پیدا کریں
چڑھ کے سولی پر خریدیں گے خریدار آپ کو
آپ اپنے حسن کا بازار تو اونچا کریں
جی میں آتا ہے کہ دیں پردے سے پردے کا جواب
ہم سے وہ پردہ کریں، دنیا سے ہم پردہ کریں
سن رہا ہوں کچھ لٹیرے آ گئے ہیں شہر میں
آپ جلدی بند اپنے گھر کا دروازہ کریں
کیجیۓ گا رہزنی کب تک بہ نامِ رہبری
اب سے بہتر آپ کوئی دوسرا دھندا کریں
اس پرانی بے وفا دنیا کا رونا کب تلک
آئیے مل جل کے دنیا اک نئی پیدا کریں
دل ہمیں تڑپائے، تو کیسے نہ ہم تڑپیں نذیرؔ
دوسرے کے بس میں رہ کر اپنی والی کیا کریں

نذیر بنارسی

No comments:

Post a Comment