اور تو کچھ نہ ہوا پی کہ بہک جانے سے
بات مے خانے کی باہر گئی مے خانے سے
کوئی پیمانہ لڑا جب کسی پیمانے سے
ہم نے سمجھا کہ پکارا گیا مے خانے سے
دو نگاہوں کا جوانی میں ہے ایسا ملنا
دل کی دنیا میں سویرا سا نظر آتا ہے
حسرتیں جاگ اٹھی ہیں تِرے آ جانے سے
دل کی اجڑی ہوئی حالت پہ نہ جایا جائے
شہر آباد ہوئے ہیں اسی ویرانے سے
جلوہ گر آج انہیں بھی سرِ منبر دیکھا
جن کو دیکھا تھا نکلتے ہوئے مے خانے سے
درو دیوار پہ قبضہ ہے اداسی کا نذیر
گھر مِرا گھرنہ رہا ان کے چلے جانے سے
نذیر بنارسی
No comments:
Post a Comment