Wednesday, 2 December 2015

اور تو کچھ نہ ہوا پی کہ بہک جانے سے

اور تو کچھ نہ ہوا پی کہ بہک جانے سے
بات مے خانے کی باہر گئی مے خانے سے
کوئی پیمانہ لڑا جب کسی پیمانے سے
ہم نے سمجھا کہ پکارا گیا مے خانے سے
دو نگاہوں کا جوانی میں ہے ایسا ملنا
جیسے دیوانے کا ملنا کسی دیوانے سے
دل کی دنیا میں سویرا سا نظر آتا ہے
حسرتیں جاگ اٹھی ہیں تِرے آ جانے سے
دل کی اجڑی ہوئی حالت پہ نہ جایا جائے
شہر آباد ہوئے ہیں اسی ویرانے سے
جلوہ گر آج انہیں بھی سرِ منبر دیکھا
جن کو دیکھا تھا نکلتے ہوئے مے خانے سے
درو دیوار پہ قبضہ ہے اداسی کا نذیر
گھر مِرا گھرنہ رہا ان کے چلے جانے سے

نذیر بنارسی

No comments:

Post a Comment