Wednesday, 2 December 2015

یہ عنایتیں غضب کی یہ بلا کی مہربانی

یہ عنایتیں غضب کی یہ بلا کی مہربانی
مِری خیریت بھی پوچھی کسی اور کی زبانی
نہیں مجھ سے جب تعلق تو خفا خفا سے کیوں ہیں
نہیں جب مِری محبت تو یہ کیسی بدگمانی
مِرا غم رلا چکا ہے تجھے بکھری زلف والے
یہ گھٹا بتا رہی ہے کہ برس چکا ہے پانی 
تِرا حسن سو رہا تھا، مِری چھیڑ نے جگایا
وہ نگاہ میں نے ڈالی کہ سنور گئی جوانی
مِری بے زبان آنکھوں سے گرے ہیں چند قطرے
وہ سمجھ سکیں تو آنسو، نہ سمجھ سکیں تو پانی
ہے اگر حسین بنانا تجھے اپنی زندگی کو
تو نذیرؔ اس جہاں کو نہ سمجھ جہانِ فانی

نذیر بنارسی

No comments:

Post a Comment