Wednesday, 2 December 2015

دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں

دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں
ہوا اسے بھی اڑا دے نہ بے خیالی میں
وہ مجھ کو مانگ رہا ہے مجھے مِری خاطر
میں خود کو ڈال نہ دوں کاسۂ سوالی میں
بس ایک موجۂ بادِ بہار گزری تھی
پِرو گئی ہے مِرا جسم ڈالی ڈالی میں
بکھرتا جاتا ہے کمرے میں سِگرٹوں کا دھواں
پڑا ہے خواب کوئی چائے کی پیالی میں
دِیے کے سامنے وہ سر جھکائے بیٹھی ہے
چمک رہی ہے مِری رات اس کی بالی میں

نذیر قیصر

No comments:

Post a Comment