دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں
ہوا اسے بھی اڑا دے نہ بے خیالی میں
وہ مجھ کو مانگ رہا ہے مجھے مِری خاطر
میں خود کو ڈال نہ دوں کاسۂ سوالی میں
بس ایک موجۂ بادِ بہار گزری تھی
بکھرتا جاتا ہے کمرے میں سِگرٹوں کا دھواں
پڑا ہے خواب کوئی چائے کی پیالی میں
دِیے کے سامنے وہ سر جھکائے بیٹھی ہے
چمک رہی ہے مِری رات اس کی بالی میں
نذیر قیصر
No comments:
Post a Comment