دِیا جلایا تن سے دھول اتاری ہے
یہ سب تجھ سے ملنے کی تیاری ہے
گزر رے ہیں لہو کی دھار سے رات اور دن
رات اور دن کے پیچھے اپنی باری ہے
ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے تھے
تم نے رات اور ہم نے عمر گزاری ہے
سر پر جو گٹھڑی ہے اس کا بوجھ نہیں
گٹھڑی میں جو سپنا ہے وہ بھاری ہے
رنگوں خوشبوؤں میں بھیگتا جاتا ہوں
کپڑے ہیں یا پھولوں کی الماری ہے
اک بوسہ، اک آنسو حاصل دنیا کا
باقی جو کچھ ہے سب دنیاداری ہے
نذیر قیصر
No comments:
Post a Comment