Monday, 15 March 2021

بات مقدر کی ہے ساری بخت کا لکھا مارتا ہے

 بات مقدر کی ہے ساری بخت کا لکھا مارتا ہے

کچھ ‌سجدوں‌ میں ‌مر جاتے ہیں، کچھ کو سجدہ‌ مارتا ہے

صرف ‌ہمیں ہیں جو تجھ پر پورے کے پورے مرتے ہیں

ورنہ کسی کو تیری آنکھیں، کسی کو لہجہ مارتا ہے

 اب عشّاق کا میلہ ہو تو مجنوں کو بھی لے آنا 

عاشق تو جیسا بھی ہے پر نعرہ اچھا مارتا  ہے

عشق کے ہاتھوں مر کر دیکھو ایسا انوکھا قاتل ہے

زندہ کر کے رکھ دیتا ہے، اتنا سوہنا مارتا  ہے

وہ تو علی زریون ہے بھائی اس کی گلی کا بچہ بھی

بات ذرا سی غلط کرو تو منہ پر مصرعہ مارتا  ہے


علی زریون

No comments:

Post a Comment