کتنی دفعہ کہوں نہیں ہوتا
مجھ سے رشتوں کا خوں نہیں ہوتا
عشق ہوتا ہے باعثِ توقیر
عشق وجہِ جنوں نہیں ہوتا
نیند کی گولیاں بتاتی ہیں
مال و زر میں سکوں نہیں ہوتا
گر تو اِتنی ہی خوبصورت ہے
پھر مجھے پیار کیوں نہیں ہوتا
پر کٹا کر اُڑان کی کوشش
بات یوں ہے کہ یوں نہیں ہوتا
بھوک نے یہ بتا دیا ہے مجھے
اس سے گھاتک فسوں نہیں ہوتا
باپ سے خود کو مت سمجھ دانا
چھت سے اونچا ستوں نہیں ہوتا
مبشر میو
No comments:
Post a Comment