Monday, 15 March 2021

دیا جلا بھی نہیں جو اسے بجھا دیا جائے

 دِیا جلا بھی نہیں جو اسے بُجھا دیا جائے

ہمیں بھی وقت سے پہلے ہی اب سُلا دیا جائے

یہی رضا ہے اگر کاتبِ مقدر کی

تو جو پنپ نہ سکے پھر اسے مِٹا دیا جائے

رہے نہ زد میں کسی بھی بدلتے موسم کی

نہال دل پہ وہی پھول اک کھِلا دیا جائے

کسی کو پانے کا احساس اس طرح سے رہے

تو بزمِ دوست سے دُشمن کو ہی اُٹھا دیا جائے

فلک کو چھُونے کی بے سود آرزو نہ ملے

میں خاک ہوں تو مجھے خاک میں مِلا دیا جائے

یہی مطالبہ رضیہ ہے آج منصف سے

ہمارے صبر و رضا کا کوئی صِلہ دیا جائے


رضیہ سبحان

No comments:

Post a Comment